نئی دہلی: یکم اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے ای وی ایم مشینوں پر سوال اٹھانے والی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ عدالت نے 50,000 روپے کا جرمانہ بھی لگایا ہے۔مدھیہ پردیش جن وکاس پارٹی کو پھٹکار لگاتے ہوئے جسٹس سنجے کشن کول کی بنچ نے کہا کہ جو پارٹی ووٹروں کے ذریعہ پہچان حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے،وہ واضح طور پر ایک پارٹی ہے۔ایک پٹیشن دائر کر کے شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عدالت ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی بھی آ کر تشہیر حاصل کر سکے۔
سپریم کورٹ نے اس درخواست کو خارج کر دیا،جس میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کو ای وی ایم میں خامیوں کو دور کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی درخواست کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ انتخابی عمل کی کئی دہائیوں سے الیکشن کمیشن نگرانی کرتا ہے۔ یہ مسئلہ وقتاً فوقتاً اٹھایا جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جس پارٹی کو ووٹروں نے پہچان نہیں دیا وہ اس طرح کی درخواستوں کے ذریعے پہچان حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔